Thursday, 13 September 2012

Complete Book "Travelogue on Saudi Arabia"

Wednesday, 15 August 2012

عظمت قرآن و حاملِ قرآن


عظمت قرآن و حاملِ قرآن
شاعر: محمد مجاہد سیّد  (جدّہ سعودی عریبیہ)

یہ کوہ و دشت زمین و زماں سبھی چپ تھے
کہ آئی اُس میں پرِ جبرئیلؑ کی آواز
جو چاک کر کے گئی مثلِ برق سینۂ شب
ہزاروں سال سے خاموش ریگ صحرا پر
ندا فرشتے کی گونجی کلامِ نور لیئے
حِرا کی خلوتوں، عرشِ بریں کا راز لیئے
حرم میں جلوہ نُما ہے نبیﷺ کی صورت میں
شکست جہل کا اعلان آیتِ قرآں
لہو کے سبل میں وادیٔ غیر ذی زرُعُ
نئی بہار کا دیتی ہے ہر طرف پیغام
وہ اِک بہار جسے بے خزاں ہی رہنا ہے
وہ اِک بہار جسے آ کے پھر نہ جانا ہے
وہ اِک بہار جو بدلے گی خار و خَس کا نصیب
اُسی بہار سے نطقِ عرب میں پھول کھلے
اُسی بہار  پر شعرِ عجم کا چہرہ زرد
اُسی بہار سے مشرق میں آمدِ نوروز
اُسی بہار سے مغرب میں برگ پگھلی ہے
یہی بہار شمال و جنوب کی رونق
اُسی سے خاکِ زمیں پر نزولِ نور ہوا
وہ جس بہار کا منبع ہے سینۂ قرآں
کشادِ دل کیلئے نسخۂ یقیں ہے جو
بہ سمتِ کعبہ ٔ جن و بشر چراغِ حرم
کلید شرعِ مبیں، خلق و مہر کا پیکر
زُبانِ پاک پہ اور سینۂ مبارک میں
وحی کا نور لئے جلوہ گر ہے بطحا میں
وہی نہ ہو تو وجود و عدم برابر ہیں
دل و نگاہ کی منزل اُسی کو رہنا ہے
تمام زیست کا حاصل اُسی کو رہنا ہے

Wednesday, 23 May 2012

سفرۃٌ طیبۃ پر تبصرہ


قونصل جنرل پاکستان جناب عبدالسالک خان کا  سفرۃٌ طیبۃ  پر تبصرہ

          معروف پاکستانی خطاط جناب ابنِ کلیم احسن نظامی کی رپورتاژ ’’سفرِ طیبہ‘‘ کے مطالعہ کے بعد میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جناب ابنِ کلیم جہاں ایک اعلیٰ پائے کے خطاط ہیں وہیں ایک بلند پایہ مصنف بھی ہیں۔ خاتم الانبیاء محمد ؐ کی محبت ہر مسلمان کے دل میں کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوتی ہی۔ نظامی صاحب اس محبت میں بھی بہت سوں سے آگے بڑھتے نظر آتے ہیں۔ ’’سفرِ طیبہ‘‘ میں انکی رسالت مآب ؐ سے والہانہ محبت و وابستگی جابجا نظر آتی ہی۔
          قونصلیٹ جنرل پاکستان، جدہ نے سعودی عرب میں پہلی مرتبہ قرآنی اور عربی خطاطی کی نمائش ’’علّم بالقلم‘‘ کے عنوان سے یکم تا 4اکتوبر 2011ء منعقد کی۔ اس نمائش میں پاکستان کے مایہ ناز خطاطوں نے اپنی خطاطی کے خوبصورت نمونے پیش کئے اور سعودی عوام و خواص کے ساتھ ساتھ پاکستانی کمیونٹی اور جدہ میں مقیم غیر ملکیوں کو خوشگوار حیرت میں مبتلا کر دیا۔ اسی نمائش میں خطِ رعنا کے موجد ابنِ کلیم احسنؔ نظامی ایک معتبر خطاط کی حیثیت سے شریک رہی۔ انہوں نے اپنے دس روزہ قیامِ مکہ اور مدینہ منورہ کو جس خوبصورتی اور اختصار لیکن جامع انداز میں قلم بند کیا ہے وہ یقینا قابلِ ستائش ہی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب ایک عام قاری کے لئے بھی اتنی ہی مفید اور دلچسپ معلومات رکھتی ہے جتنا کہ خطاطی سے محبت رکھنے والے افراد اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
          سفرنامہ طیبہ میں جناب ابنِ کلیم نے فنِ خطاطی کی مختصر تاریخ اور خطاطی میں ایجاد کردہ ’’خطِ رعنا‘‘ کے بارے میں جامع معلومات فراہم کی ہیں۔ مصنف نے خوبصورت اور متأثر کن انداز میں خطاطی نمائش میں شریک تمام خطاطوں کا مختصر و جامع تعارف شامل کر کے نہ صرف پاکستان میں خطاطی کے فن کو اُجاگر کیا ہے بلکہ اس فن کے چاہنے والوں کو کئی نامور اور اُبھرتے ہوئے خطاطوں سے روشناس بھی کروایا ہی۔
          مصنف نے ’’علّم بالقلم‘‘ نمائش کا چار روزہ احوال اور سفرِ مکہ، مدینہ منورہ کی روداد نہایت سادہ اور فکر انگیز انداز میں تحریر کیا ہی۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے سعودی اخبارات اور میڈیا میں نمائش سے متعلق خبروں کا مختصر جائزہ بھی شامل کیا ہی۔
          اس کتاب کی ایک اور خصوصیت جس کا ذکر میں ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ کہ معتمرین حج و عمرہ کے لئے یہ ایک موزوں اور بہترین رہنمائے سفر ہوسکتی ہی۔ ابنِ کلیم صاحب نے اپنے جذبات کے اظہار کے لئے جابجا خوبصورت اشعار کا ستعمال کیا ہے جو کہ ان کے شوق شاعری کی غمازی کرتا ہی۔
عبدالسالک خان
قونصل جنرل
28-01-2012  جدہ ، سعودی عریبیہ